اسلام میں سوگ

غم کرنا یا سوگ منانا اسلام میں قابل قبول ہے لیکن آج کل جس طرح مسلمان کرتے ہیں وہ سختی سے منع ہے۔ کسی پیارے کی موت پہ آنسو بہانا معمولی سی بات ہے لیکن چیخنا چلانااور بین کرنا منع ہے۔

مندرجہ ذیل احادیث کے حوالے سےسمجھا جا سکتا ہے کہ کس کی اجازت ہے کس کی نہیں ہے.

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:

میں اس خاتون کو نفرت کرتا ہوں جواپنے کسی پیارے کی موت پہ بہت بلند آواز سے روتی ہے، یا اپنے  بال نوچتی ہے، یا اپنےکپڑے پھاڑتی ہے۔ (بخاری اور مسلم)

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:

وہ ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے چہرے پہ مارے ، اپنے کپڑے  پھاڑے،غم کرے جب کوئ مصیبت اس پہ آۓ جیسا کہ زمانہ جہالیت میں ہوتا تھا۔(بخاری اور مسلم)

 

جن عورتوں کا خاوند فوت ہو جاتا ہے ان کے لیےاسلام میں عدت کا حکم ہے۔

اس دور کو عدت(انتظار کی مدت) کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن میں اللہ کی طرف سے ارشاد  ہے:

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

اور تم میں سے جو مر جائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو اے والیو! تم پر اس کام میں کوئ حرج نہیں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شریعت کے مطابق کر لیں اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
اسلام میں زیادہ سے زیادہ ۳ تین دن سوگ کیا جا سکتا ہے۔