جنازہ کے انعقاد کا طریقہ

جنازے کا بندوبست

موت کا سرٹیفیکیٹ

پہلی اور سب سے اہم چیز موت کا سرٹیفکیٹ لینا ہے. اگر موت ہسپتال میں ہوئی ہو تو ڈاکٹر یہ سرٹیفیکیٹ دے دیتا ہے ورنہ یونین کونسل سے لیا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفیکٹ مستقبل کی پیچیدگیوں سے بچاۓ گا

منتقلی

اگلا مرحلہ میت کو اُس جگہ لے جانا جہاں اُسکو غُسل دیا جا سکے اور کفن پہنایا جاسکے۔ عام طور پر منتقلی کے لیے ایمبولینس استعمال کی جاتی ھے۔ میت کو نہلانے اور کفن پہنانے کے بعد اُس جگہ رکھا جاتا ہے جہاں لوگ افسوس کے لیے آتے ہیں۔جنازے سے پیہلے میت کو جنازہ گاہ پہیچایا جاتا ہے۔آخر میں اسے قبرستان لے جاتے ہیں جہاں دفنا دیا جاتا ہے۔

غسل اور کفن

غسل کے لئے ضروری اشیاء

غسل سے پہلے تسلی کر لیں کہ غسل سے متعلق تمام چیزیں دستیاب ہیں۔

ضرورت کا پانی، صابن، کافور خوشبو، روئی، پانی کے لئے برتن، بیری کے پتے، جنازہ چارپائی، تختہ غسل۔

میت کے غسل کے احکامات

عموماغسل میت کے قریبی رشتہ دار دیتے ہیں اور اسلام میں بھی حکم ہے کہ غسل اور کفن میت کے قریبی رشتہ دار ہی دیں۔ لیکن کچھ لوگ نرم دل کے مالک ہوتے ہیں وہ اکیلے غسل نہیں دے سکتے، وہ دوسروں کی مدد لیتے ہیں۔

غسل کے لیے پردے کا اہتمام ہونا چاہیے زندہ انسان کی طرح میت کے ستر کو دیکھنا جائز نہیں۔

سب سے پہلے میت کے پیٹ کو دبائیں تا کہ کوی نجاست ہو تو خارج ہو جائے۔

استنجاء کرنے کے بعد وضو کرائیں اور اسے دائیں جانب  سے شروع کریں۔ صحیح بخاری 1255

غسل دینے والا اگر میت کے اندرکوئی نا پسندیدہ چیز دیکھے تو دوسروں کے سامنے اظہار یا تذکرہ نہ کرے۔

بیری والے پانی کے ساتھ تین پانچ یا سات مرتبہ غسل دینا چاہئیے۔ صحیح مسلم 939

اگر میت کو غسل دینے والا شخص پاک ہے تو اسے میت کو غسل دینے سے پہلے خود غسل کرنا ضروری نہیں۔

میت کو غسل دیتے وقت اسکے بغلوں اور زیر ناف بال اور ناخن اتارنے کی ضرورت نہیں۔

میت کو غسل اور کفن دینے کا مسنون طریقہ

میت کو غسل دینے، اسکی نماز جناذہ پڑھانے اور اسکو دفن کرنے کا سب سے زیادہ حق دار اسکا وصی ہے (وہ شخص جس کو مرنے والے نے وصیت کی ہو) پھر باپ، پھر دادا، پھر درجہ بدرجہ میت کا قریب ترین رشتہ دار عورت حق دار ہے۔

اسی طرح عورت کو غسل دینے کی سب سے زیادہ حقدار اسکی وصیہ ہے( وہ عورت جسکو میت نے وصیت کی ہو) پھر ماں، دادی، پھر عورتوں میں درجہ بدرجہقریب تریں رشتہ دار عورت حقدار ہے۔

سب سے پہلے بَیری کے پتوں کا جوش دیا ہوا پانی جو نیم گرم ہو ایک بالٹی یا برتن میں لیں ۔ دوسری بالٹی  یا برتن میں پانی لے کر اس میں کافور ڈال دیں۔

میت کو اٹھا کر تختہ غسل پر لٹایا جائے۔

کپڑے سے اسکے مخصوص حصے کو ڈھانپ دیا جائے۔

پھر میت کو کندھوں کی جانب سےتھوڑا سا اٹھا کر میت کے پیٹ کو دبائیں تا کہ کوی نجاست ہو تو خارج ہو جائے۔

میت کی ناف کے نیچے حصہ کو پانی ڈال کر بائیں ہاتھ پر دستانہ چڑھا کر بغیر دیکھے اچھی طرح صاف کیا جائے۔ اور تسلی کر لی جاے کہ دونوں جگہ پاک صاف ہو چکی ہیں، بعد ازاں اسی جگہ کو صابن لگا کر گھٹنوں تک اچھی طرح دھوئیں تاکہ تمام غسل کے دوران اس جگہ پردوبارہ ہاتھ لگانے کی ضرورت نہ رہے۔

اب میت کو اچھی طرح وضو کرایا جائے۔ میت کے وُضو میں پہلے گِٹوں تک ہاتھ دھونا،کُلّی کرنا اورناک میں پانی ڈالنا نہیں ہے، البتہ کپڑے یارُوئی کی پُھرِیری بِھگوکر دانتوں ،مسوڑھوں،ہونٹوں اورنتھنوں پر پَھیر دِیں- ۔ ناک، منہ اور کان میں پانی یا صابن جانے کا خطرہ  کے سبب روئی وغیرہ کی بتیاں بنا کر رکھ دیں۔

پھر اس کے  سر کے بال اور داڑھی کو دھویا جائے۔

اَب بائیں (یعنی اُلٹی)کروٹ پرمیت کو لٹا کر اس کے بعد میت کے جسم پربالٹی کا نیم گَرم پانی سر سے پاؤں تک بہائیں کہ تختے تک پہنچ جائے پھردائیں (سیدھی ) کروٹ لٹا کر میت کے جسم پربالٹی کا نیم گَرم پانی سر سے پاؤں تک بہائیں کہ تختے تک پہنچ جائے۔

چونکہ زیر ناف حصہ کو پہلے سے صاف کر لیا گیا تھا اسکو چھوڑ کر بقیہ پورے بدن (منہ، چہرہ، بازو، جسم کے سامنے کا حصہ پیٹ چھاتی وغیرہ، جسم کا پچھلا حسہ کمر گٹھنے سے نیچے ٹانگوں کا حصہ اور پاوں شامل ہیں) کو صابن سے اچھی طرح دھویئں۔ جسم کو خوب اچھی طرح مل کر صاف کرنے کے بعد اگر غسل دینے والا محسوس کرے بدن کو دوبارہ دھونے کی ضرورت ہے تو دوبارہ پانی بہالے (تاہم جس قدر تعداد میں پانی ڈالنا ہو یہ تعداد طاق عدد میں ہو۔ ) آخر میں سر سے پاؤں تک کافور کا پانی بہائیں پھر کسی پاک کپڑے سے بدن آہستہ سے پونچھ دیں۔

میّت کی داڑھی یا سر کے بال میں کنگھا کرنا یا ناخن تراشنا یا کسی جگہ کے بال مونڈنا یا کترنا یا اُکھاڑنا، جائز نہیں۔

سجدے کی جگہوں  یعنی پیشانی،ناک ،ہاتھوں ،گھٹنوں اورقدموں پر اور جوڑوں پر خوشبو لگائی جائے۔

عورت کو غسل دینے کا طریقہ

عورت کو مسلمان عورت ہی غسل دے یا عورت کو اسکا خاوند بھی غسل دے سکتا ہے۔ اگر خاوند غسل دے تو اکیلا ہی دے، عورتوں کو غسل دینے کی صورت میں شریک عورتوں کے علاوہ کوئی دوسرا اس جگہ نہ آئے۔

عورت کے غسل کا مکمل طریقہ وہی ہے جو مرد کے غسل کا ہے سوائے اس عورت کے بالوں کو غسل کے اختمام پر تین حصوں میں تقسیم کریں، دایئں بائیں اور پیچھے کی طرف ڈال دیں۔

کفن کیا ہونا چاہیئے؟

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جسم کو دھونے کے بعد فوری طور پر کفن پہنا دینا چاہئے۔ کفن کا کپڑا زیادہ مہنگا نہیں ہونا چاہئے نہ ہی سلا ہونا چاہیے اور نہ ہی اس میں کوئی  ریشمی مواد شامل ہو۔کفن سفید کپڑے کی تین چادروں پر مشتمل ہے۔

کفن تین چادروں پہ مشتمل ہوتا ہے رسولﷺ کو تین چادروں میں کفنایا گیا- (صحیح بخاری 1264 صحیح مسلم 941) مجبوری میں ایک کپڑا بھی جائز ہے

عورت کے کفن کے لئے اگر میسر ہو تو پانچ کپڑے استعمال ہوتے ہیں ورنہ مجبوری میں ایک کپڑا بھی جائز ہے (صحیح بخاری)۔

مَرد کا مَسنون کفن تین چادروں پہ مشتمل ہوتا ہے۔

(۱)لِفافہ (۲)اِزار(۳) قمیص

عورت کا مسنون کفَن میں پانچ کپڑے ہوتے ہیں

مندرجہ بالا تین اوردومزید(۴) سِینہ بند (۵)اَوڑھنی۔

خُنثیٰ مشکل کو عورت کی طرح پانچ کپڑے دیئے جائیں

کفن کی تفصیل

لِفافہ :یعنی چادر میت کے قد سے اتنی بڑی ہوکہ دونوں طرف سے باندھ سکیں۔

اِزار:(یعنی تہبند)چَوٹی(یعنی سر کے سِرے)سے قدم تک یعنی لِفافے سے اِتنا چھوٹاجو بَندِش کے لئے زائدتھا۔

قمیص: (یعنی کفنی)گرد سے گُھٹنوں کے نیچے تک اوریہ آگے اورپیچھے دونو ں طرف برابر ہواِس میں چاک اورآستینیں نہ ہوں۔مَرد کی کفنی کندھوں پر چیریں اورعورت کے لئے سینے کی طرف

سِینہ بند:سینے سے ناف تک  ہو ۔

اَوڑھنی

عموماَ تیار کفن خرید لیا جاتاہے اُس کا میت کے قد کے مطابق سائز کا ہونا ضروری نہیں۔

مَرد کوکفن پہنانے کاطریقہ

کفن کو ایک یا تین یا پانچ یا سات بار خوشبودار  دُھونی دے دیں۔پھر اِس طرح بچھائیں کہ اپہلے لفافہ یعنی بڑی چادر اُس پر تہبند اوراُس کے اُوپر کفنی رکھیں۔اَب میت کو اِ س پر لِٹائیں اورکفنی پہنائیں، ۔پھر تہبنداُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سے لَپٹیں ۔اب آخر میں لِفافہ بھی اِسی طرح پہلے اُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سے لَپٹیں تاکہ سیدھا اُوپر رہے ۔سَر اورپاؤں کی طرف باندھ دیں۔

عورت کو کفن پہنا نے کاطریقہ

کفنی پہنا کراُس کے بالوں کے تین حصے کرکے کفنی کے پیچھے، دائیں اور بائیں ڈال دیں ۔اوڑھنی کو آدھی پیٹھ کے نیچے بچھا کر سر پر لاکر منہ پر نقاب کی طرح ڈال دیں کہ سینے پررہے۔اِس کا طول آدھی پشت سے نیچے تک اورعَرض ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لوتک ہو۔بعض لوگ اوڑھنی اس طرح اڑھاتے ہیں جس طرح عورتیں زندگی میں سپر اوڑھتی ہیں یہ خلافِ سُنت ہے ۔پھر بدستور تہبندولفافہ یعنی چادرلپٹیں۔پھر آخر میں سینہ بند سینے کے اوپر والے حصے سے ران تک لاکر کسی ڈوری سے باندھیں۔ آخر میں میت پر ایک بڑی سی چادر وغیرہ ڈال دی جائے جو کہ چارپائی کے ساتھ واپس آجائے گی۔

اس تمام عمل کے مکمل ہوجانے کے بعد میت کو افسوس کی جگہ منتقل کر دیا جاتا ہے.

نماز جنازہ

نماز جنازہ مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ ہے۔یعنی اگر ایک فرد بھی ادا کر دے تو ادا ہو جائے گا۔ ورنہ جن جن کو خبر پہنچی تھی اور نہیں آئے وہ سب گنہگار ہوں گے ۔ اِس کے لئے جماعت شرط نہیں ،ایک شخص بھی پڑھ لے تو فرض ادا ہو گیا۔ پیغمبرمحمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو اس عمل میں شرکت سے منع کیا ہے

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نماز جنازہ کی جگہ جاتے ہوۓ آپ کو  میت کے لئے دعا کرنی چاہئے یا خاموش رہنا چاہئے. ماتم کرنااوررونا اسلام میں منع ہے۔ مرے ہوۓ انسان کی مغفرت کے لۓ نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔ مردہ پیدا ہونے والے چھوٹے بچے نماز جنازہ سے مستثنی ہیں.

نماز جنازہ کے مراحل

صفوں کی تعداد طاق رکھنی چاہئے.

امام کے سامنے قبلہ کی سمت میں میت کو رکھا جانا چاہئے۔

اس نماز کے لئے کوئی اذان یا اقامت نہیں ہے.

کوئی رکوع اور سجدہ اس نماز میں شامل نہیں ہے۔

اس نماز کی چار تکبیرات ہیں۔

سلام بھی کھڑے ہو کے پھیرا جاتا ہے۔

 

نَمازِ جنازہ کاحنفی  طریقہ

نمازِ جنازہ میں دو رکن اور تین سنّتیں ہیں۔ دو رکن یہ ہیں (۱) چار بار اللہ اکبر کہنا (۲) قِیام ۔ اس میں تین سنت موکدہ یہ ہیں (۱) ثَناء (۲)دُرُودشر یف (۳) میِّت کیلئے دعا۔

نماز جنازہ کی چار تکبیرات کا مقصد اللہ تعالٰی کی تسبیح، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے درورد اور مردے کی بخشش ہے۔

امام، پہلی تکبیر کہتے ہوۓ ہاتھوں کو اٹھاتا کانوں تک لے جاتا ہے اور پھر ہاتھ ناف کے اوپر باندھ لیتا ہےاور مقتدی بلکل اسکی طرح اس کے بعد کرتے ہیں.

اس کے بعد ثناءپڑھی جاتی ہے۔

سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك و جلا ثناك ولا إله غيرك

امام کی دوسری تکبیر کے بعد بغیر ہاتھ اوپر کیے   ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرود پڑھا جاتا ہے:

اللهم صلِّ على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد ، اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد

تیسری تکبیر کے بعد وہ بھی بغیر ہاتھ اوپر کیے اللہ تعالیٰ سے یہ  دعا کی جاتی ہے:

اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا، اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام، ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان

چوتھی تکبیر کے بعدامام اپنا چہرہ یہ کہتے ہوۓ پہلے دائیں اور پھر بائیں موڑتا ہے:

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تمام مسلمانوں کو یہ کلمات زبانی یاد ہونے چاہیے،کیوںکہ ہر کسی کو نمازجنازہ پڑھناہوتاہے۔تاہم اگر کوی ان کلمات کو یاد نہیں کر سکتا تو وہ یہ کلمات چار تکبیرات کے ساتھ پڑھ سکتا ہے:
اللهم اغفرالمؤمنين والمؤمنات

نمازِجنازہ کی دعائیں

با لِغ مرد و عورَت کے جنازہ کی دُ عا:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا وَ شَا ھِدِنَاوَغَائِ بِنَاوَ صَغِیْرِ نَا وَکَبِیْرِ نَا وَ ذَکَرِنَا وَ اُنْثٰنَاط اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہ’مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَا مِ وَ مَنْ تَوَفَّیْتَہ’ مِنَّافَتَوَ فَّہ’ عَلَی الْاِیْمَان

الہٰی بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر فوت شدہ کو اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غائب کو اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو ۔الہٰی تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جس کو موت دے تو اس کو ایما ن پر موت دے۔

نابا لغ لڑ کے کی د عا :

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَ طًا وَّ اجْعَلْہُ لَنَآ اَجْرًا وَّ ذُ خْرًا وَّ اجْعَلْہُ لَنَا شَا فِعًا وَّ مُشَفَّعًا

الہٰی اس ( لڑکے ) کو ہمارے لئے آگے پہنچ کر سامان کرنیوالا بنا دے اور اس کو ہمارے لئے اجر ( کا موجب ) اور وقت پر کام آنیوالا بنا دے اور اس کو ہماری سفارش کر نیوالا بنا دے اور وہ جس کی سفارش منظور ہو جائے ۔

نا با لغ لڑ کی کی د عا :

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا لَنَا فَرَطًا وَّ اجْعَلْھَا لَنَآ اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْھَا لَنَا شَا فِعَۃً وَّ مُشَفَّعَۃً

الہٰی اس (لڑکی ) کو ہمارے لئے آگے پہنچ کر سامان کرنیوالی بنا دے اور اس کو ہمارے لئے اجر (کی موجب ) اور وقت پر کام آنیوالی بنا دے اور اس کو ہمارے لئے سفارش کرنیوالی بنا دے اور وہ جس کی سفارش منظور ہو جائے۔

نماز کے ممنوع اوقات

دن میں کچھ ایسے اوقات ہوتے ہیں جس پر اسلام کی طرف سے کسی بھی قسم کی عبادت ممنوع ہے اور ان اوقات میں نماز جنازہ بھی ادا نہیں کی جاتی.

یہ اوقات ہیں

جب سورج چڑھ رہا ہو جب تک کہ افق سے اوپر واضح نہیں ہوجاتا۔

جب سورج آسمان کے درمیان تک پہنچ جاتا ہے

جب سورج کی غروب ہو رہاہو جب تک کہ وہ مکمل طور پر غائب نہ ہوجائے

نمازجنازہ پڑھ لینے کے بعد اگلا مرحلہ میت کو اس جگہ لے جانا جہاں اس کے لیے قبر کھودی گئ ہے تاکہ میت اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے. دفنانے کاعمل: یہ جنازہ کے عمل کا آخری مرحلہ ہے جو اداکیا جاتا ہے. قبر کی گہرائی گہری، وسیع اور اچھی طرح سے تیار ہونی چاہئے۔

 تدفین

حسبِ ضرورت دویاتین (بہتر یہ ہے کہ قوی اورنیک)آدمی قبر میں اُتریں۔عورت کی میت محارم اُتاریں یہ نہ ہوں تودیگر رِشتے دار یہ بھی نہ ہوں توپرہیز گاروں سے اُتروائیں۔

عورت کی میت کواُتارنے سے لے کر تختے لگانے تک کسی کپڑے سے چُھپائے رکھیں۔

قبر میں اُتارتے وقت یہ دُعاپڑھیں : بِسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ

میت کوسیدھی کروٹ پرلِٹائیں اوراُس کا منہ قبلے کی طرف کردیں اورکفن کی بندِش کھول دیں کہ اب ضرورت نہیں ،نہ کھولی توبھی حرج نہیں ۔

قبر اینٹوں سے بند کردیں اگر زمین نرم ہوتوتختے لگانا جائز ہے۔

اب مٹی دی جائے،مُستحب یہ ہے کہ سِرہانے کی طرف سے دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹی ڈالیں ۔پہلی بارکہیں : مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ ،دوسری بار وَفِیْھَا نُعِیْدُ کُمْ،تیسری بار، وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃََ اُخْریٰ،کہیں ۔اب باقی مٹی پھاؤڑے وغیرہ سے ڈال دیں ۔

قبر اُونٹ کے کوہان کی طرح ڈھال والی بنائیں چَو کُھونٹی (یعنی چارکونوں والی جیساکہ آجکل تدفین کے کچھ روزبعد اکثراینٹوں وغیرہ سے بناتے ہیں نہ بنائیں ۔

قبر ایک بالشت اونچی ہویا اِ سے معمولی زیادہ۔

بعدِدفن قبر پر پانی چِھڑکنا مسنون ہے ۔

اِس کے علاوہ بعد میں پودے وغیرہ کو پانی دینے کی غرض سے چھڑکیں توجائز ہے ۔

دَفن کے بعدسرہانے الم تا مُفلحون اورقدموں کی طرف اٰمَنَ الرسول سے ختم سوۃ رک پڑھنا مُستحب ہے ۔

قبر پر ایک پتھر رکھ کر اسے پہچاننے کے لئے قبر کی طرح بھی ایک سنت ہے.

قبر پر پھول ڈالنا بہترہے کہ جب تک تررہیں گے تسبیح کریں گیا اورمیت کادل بہلے گا۔

قبر کے سرہانے قِبلہ رُو کھڑے ہوکر اذان دیجئے۔

 

تلقین ۔

تلقین کی فضیلت: سرکارِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کافرمانِ ہے:جب تمہارا کوئی مُسلمان بھائی مرے اوراِ س کو مٹی دے چکو تو تم میں ایک شخص قبر کے سرہانے کھڑا ہوکر کہے :یافلاں بن فلانہ !وہ سنے گا اورجواب نہ دے گا۔پھر کہے:یافلاں بن فلانہ !وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا ،پھر کہے:یافلاں بن فلانہ !وہ کہے گا : ہمیں اِرشاد کر اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے ”مگر تمہیں اِس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی ۔پھر کہے :

اُذْکُرْ مَاخَرَجْتَ عَلَیْہِ مِنَ الدُّنْیَا:شَھَادَۃَاَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدََا عَبْدُہُ وَرَسُوْ لُہْ (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ) نَبِیََّا وَ َّبِالْقُراٰنِ اِمَامََا۔

ترجمہ:تواُسے یادکر جس پر تودُنیا سے نکلا یعنی یہ گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اِس کے بندے اوررسول ہیں اوریہ کہ تواللہ عزوجل کے رب اوراِسلام کے دین اورمحمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلمکے نبی اورقرآن کے اِمام ہونے پر راضی تھا۔

مُنکر نکیر ایک دوسرے کاہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم اُس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ اُس کی حُجَّت سکھا چکے۔اس پر کسی نے سرکارِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے عرض کی:اگر اُس کی ماں کانام معلوم نہ ہو؟فرمایا:حوا(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کی طرف نسبت کرے۔یادرہے!:یافلاں بن فلانہ کی جگہ میت اور اِس کی ماں کانام لے ،مَثلاََ یامحمد الیاس بن اَمِینہ ۔اگر میت کی ماں کا نام معلوم نہ ہوتوماں کے نام کی جگہ حوا(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کانام لے۔تلقین صِرف عربی میں پڑھئے۔