گذشتہ

قبر کے آداب


قبر پر پاؤ ں رکھنے یا سونے سے قبر والے کوتکلیف ہوتی ہے اور بلا اجازت کسی مسلمان کو ایذا دینا حرام اور جہنم میں لے کر جانے والا کام ہے لہذا کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں نہیں رکھنا چاہیے اور نہ ہی کسی قبر پر ٹیک لگا کر بیٹھنا چاہیے۔کیونکہ اس سے حضور اکرمﷺ نےمنع فرما یاہے۔

حضور اکرمﷺ نے فرما یاہے۔کہ مجھے آگ کی چنگاری یا تلوار پر چلنا میرا پاؤں جوتے میں سی دیا جانا ذیادہ پسند ہےکہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔
(ابن ماجہ ،کتاب الجنائز)

حضور اکرمﷺ نے فرما یا کہ اگر کوئی شخص انگاروں پر بیٹھ جائےجس سے اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ اس کی کھال تک پہنچ جائےتو یہ قبر پر بیٹھنے سے
.زیادہ بہتر ہے

حضور اکرمﷺ کے تین فرامین

حضور اکرمﷺ نے فرما یا کہ میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا ۔اب تم قبروں کی زیارت کرو کہ وہ دینا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخرت کو یاد دلاتی ہے۔
(ابن ماجہ ،کتاب الجنائز

(جب کوئی شخص ایسی قبر سے گزرئے جسے دنیا میں جانتا تھا۔او اس پر سلام کرئے تو مردہ اس کو جانتا ہے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔(کتاب تاریخ بغداد

(جو اپنے والدین یا ایک کی قبر کی ہر جمہ کے دن زیارت کرئے گا۔اس کی مغفرت ہو جائے گی اور وہ نیکوکار لکھاجائے گا۔( شیعب الایمان

اسلام میں سوگ


میت کے سامنے اونچی آواز سے رونا یا واویلا کرنانوحہ کہلاتا ہے۔یہ تمام کام زمانہ جاہلیت کے ہیں ایسا کرنے والی عورتیں اور مردوںپر قیامت کے دن شدید عذاب ہو گا۔تعزیت کے لیےآنے والی عورتیں اونچی آواز سے روتی ہیں ان کو منع کرنا چاہیے حدیث شریف میں ان کو سخت الفاظ میں منع فرمایا گیا ہے۔تین دن سے زیادہ سوگ جائز نہیں مگر عورت شوہر کے مرنے کے بعد چار مہینے دس دن سوگ کرئے(بخا ری ،کتاب الجنائز)
رونا جائز ہے لیکن اونچی آواز سے رونا جائزنہیں ہے۔ کہ حضور اکرمﷺ نے بھی حضرت ابراہیم کی وفات پر آنسو بہائے تھے۔( کتاب الصلاۃ)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ کہ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم کے سبب اللہ تعالی عذاب نہیں فرماتا اور حضور اکرمﷺ نے زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا لیکن اس کے سبب اللہ تعالی عذاب یا رحم فرماتا ہے۔اور گھر والوں پر رونے کی وجہ سے میت پر عذاب ہوتاہے۔(بخا ری ،کتاب الجنائز)

عدت کی تعریف کیا ہے
عدت کا لفظ اصطلاح میں اس مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں بیوی شوہر کی طرف سے طلاق یا اس کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی ۔
وفات کی عدت
وفات کی عدت غیر حاملہ عورت کے لئے چار ماہ دس دن ہے۔لیکن عورت اگر امید سے ہو تو عدت کی مدت بچے کی ولادت تک ہونے کو ہے۔ لیکن شوہر کی وفات بچے کی ولادت کے بعد ہو جائے یا اگر دو یا تین بچے ایک حمل سے ہو جائیں تو پہلے کی ولادت ہونے تک عدت ہو گی
عدت کہاں گزارنی چاہیے
اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو عدت اسی مکان میں گزارنی چاہیے جس میں شوہر نے اپنی زوجہ کو رکھا تھا۔ لیکن اگر کوئی ڈر یا اگر کوئی خوف ہو تو وہ مکان بدل سکتی ہے(کتاب اطلاق)
کیا عورت دوران عدت گھر سے نکل سکتی ہے
عورت دوران عدت گھر سے نہیں نکل سکتی ہے۔لیکن عورت شرعی پردے کے اہتمام کے ساتھ بوقتِ ضرورت وہ گھر سے باہر جاسکتی ہے۔ لیکن کسی محرم کے ساتھ عورت بوقتِ ضرورت دن میں جائے ا و رسورج ڈھلنے سے پہلے واپس آجائے
دوران عدت نکاح کرنا کیسا ہے
بیوہ تو عدت پوری کرنے کے بعد ہی نکاح کر سکتی ہے۔ دوران عدت نکاح نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی کو دوران عدت نکاح کا پیغام دے سکتی ہے دوران عدت نکاح کرنا اللہ رسول کی نافرمانی،اور حرام ہے۔
عدت میں نکاح کا پیغام
کسی شخص کے لیے عورت سے اس کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے۔اگر عدت میں ہو تو اشارۃ کہہ سکتا ہے۔اور اگر طلاق رجعی یابائن کی عدت ہیں ہوتو تو اشارۃ نہیں کہہ سکتا ۔ اشارۃ کہنے کی صورت یہ ہے کہ کہے کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوںمگر یہ نہ کہے کہ تجھے سے ورنہ صراحت ہو جائے گی۔ لیکن پردے اور دیگر لوزامات کی پابندی بہت ضروری ہے۔(عالمیگری، کتاب اطلاق)
عدت میں پردے کا حکم
عدت سے پہلے جن لوگوں سے پر دہ کرنا شریعت کے لخاظ سے فرض تھا عدت کے بعد بھی ان سے سے پردہ کا حکم ہے یعنی جن سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہے، جیسے بھائی، والد بھتیجہ، بھانجہ وغیرہ ان سے پردہ کا حکم نہیں ہے۔
سوگ کا بیان
حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت تین دن سے زیادہ سوگ نہیں کرئے
تین دن سے زیادہ سوگ جائز نہیں مگر عورت شوہر کے مرنے کے بعد چار مہینے دس دن سوگ کرئے

مقبول حج کے برابر کا ثواب
حضوراکرمﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے والد یا والدہ کی قبر کی زیارت مقبول حج کے برابر ثواب پائے اوہ جو بکثرت ان کی قبر کی زیارت کرتا ہو جب وہ فوت ہو جائے گا فرشتے اس کی قبر کی زیارت کو آئیں گئے(ترمذی)
مومن کی قبر ستر ہاتھ کشادہ کی جاتی ہے
حضوراکرمﷺ نے فرمایا کہ مومن اپنی قبر میں ایک سرسبز باغ میں ہوتا ہے اور اس کی قبرستر ہاتھ کشادہ کی جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کے حکم سے چاند کی طرح روشن کر دی جاتی ہے۔ (ابویعلی، مسند ابو ھریرہ)
مرحوم والدین کے حقوق
مرنے کے بعد سب سے پہلا کام اس کے غسل اور کفن دفن کا انتطام کرنا ہے ان تمام کاموں میں سنتوں اور مستحبات کاخیال رکھا جائےتاکہ ان کے لیے رحمت برکت کی ہو۔
مرحوم والدین کے لیے ہمیشہ دعا استغفار کرتے رہنا چاہیے اور کبھی اس کے لیے غفلت نہیں کرنی چاہیے
صدقہ وخیرات اور نیک اعمال کا ثواب انہیں پہنچاتے رہیں۔اپنی نمازوں کے علاوہ کچھ نوافل اور نفلی روزے رکھ کر اپنے والدین کو ا یصال ثواب کریں۔ اور سب مسلمانوں کو بھی ایصال ثواب کریں ۔اگر والدین پر کچھ قرض ہے تو جتنا جلدی ہو سکے تو اس کو ادا کر دیا جائے۔ اگر آپ قرض خود ادا کر سکتے ہیں تو بہتر ہے اور یہ بہت بڑی سعادت ہے۔اگر آپ خود قرض نہیں ادا کر سکتے تو رشتہ داروں سے قرض لے کر ادا کر لیں اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو نیک مال داروں سے امداد لے لیں۔اگر والدین کی طرف سےکوئی فرض رہ گیا ہے اورآپ کو اللہ تعالی نے استطا عت دے رکھی ہے مثال کے طور پران پر حج فرض تھا انہوں نے نہیں کیا تو اب آپ خود ان کی طرف سے حج کریں یا کروادیں۔اگر رمضان کے روزے رہ گئے ہیں تو کفارہ دے کر ادا کروادیں ۔شرعی اصولوں کے مطابق انہوں نے جو بھی وصیت کی ہو اس کو پورا کرنے میں ہر ممکن مدد کی جائے
اپنے والدین کے ساتھ عمر بھر نیک سلوک کیا جائے اور ان کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے ہمیشہ ان کا ادب واحترام کیا جائے دوسروں کے ماں باپ کو برا کہہ کر اپنے والدین کو برا نہ کہلوائے جائے۔
دنیا میں گناہ کرکےان کو قبرمیں رنج وغم نہ پہنچائے کیونکہ اس کے سب اعمال کی خبرماں باپ کو پہنچتی ہے جب وہ نیکیاں دیکھتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں لیکن جب وہ گناہ دیکھتے ہیں۔تو وہ پریشان ہوتے ہیں ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ ان کو قبر میں بھی غم پہنچایا جائے

کیس سٹڈی

کیس سٹڈی

Urdu Version Case Study

تجہیزوتکفین کی فضیلت
امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رحمتہ اللعالمین نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی میت کونہلائے، کفن پہنائے، خوشبو لگائے، جنازہ اٹھائے، نماز پڑھے اور جو ناقص بات نظر آئے اسے چھپائے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے پیدائش کے دن تھا۔
(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی غسل المیت، ۲/۲۰۱،حدیث ۱۴۶۲)
۔ اسلیے ہمیں چاہیئے کہ جب کسی مسلمان کی موت کی خبر ملے، ممکن ہو تو اچھی نیت سے اسکی تجہیزوتکفین میں ضرور شامل ہوں۔


نزع کا بیان
نزع کے لغوی معنی ہیں کحینچنا اور اس سے مراد روح کا جسم سے نکلنا ہے اسی کو جان نکلنا اور موت آنا بحی کہتے ہیں۔ جو اس دنیا میں پیدا ہور اسے ایک نہ ایک دن ضرور مرنا پڑے گا اسی طرح ہمیں بھی مرنا اور اسکے بعد کے مراحل سے گزرنا پڑے گا،

موت کی یاد
نبی مصطفیﷺ ہے کہ: لذتوں کو مٹانے والی (یعنی موت) کو بکثرت سے یاد کیا کرو۔ ( ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجہ فی ذکر الموت، 137/4 ، حدیث 2314)
ایک حدیث میں ہے: جو دن رات بیس مرتبہ موت کو یاد کرتا ہو اُسے شہیدوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ (شرح الصدور، باب ذکرالموت و فضلہ، ص 12)
عقل مند مومن

حضرت سیدناابن عمر(رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ ایک انصاری شخص نے آپﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: اے اللہ کے پیارے رسولﷺ سب سے عقلمند مومن کون ہے؟ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہو اور اسکے بعد کے لیے اچھی طرح تیاری کرتا ہو۔
(بن ماجہ،، کتاب الزھد، باب ذکر الموت)

مومن اور کافر کی موت
حضرت زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کسی مومن پر ایسے گناہ رہ جاتے ہیں جن کے بدلے میں نیک اعمال نہیں ہوتے تو اس پر موت کی سختیاں مسلط کر دی جاتی ہیں تاکہ یہ سختیاں ان گناہوں کا بدل ہو جائیں اور مومن کی تکالیف جنت میں اسکے درجات بلند ہونے کا سبب بنیں۔ جبکہ کافر دنیا میں کوئی اچھا کام کرے تو اس پر موت آسان کردی جاتی ہے تاکہ اُسے اس کام کا بدلہ دنیا میں ہی پورا پورا مل جائے پھر یقیناً اسے دوزخ میں ہی جانا ہے۔
(شرح الصدور،ص 29، ومعجم کبیر للطیرانی، حدیث 10015
قریب المرگ والوں کے لیے مدنی پھول
جب موت کا وقت قریب آئے اور علامتیں پائی جائیں تو سنت یہ ہے کہ:
مرنے والے کو داہنی کروٹ پر لٹا کر قبلہ کی طرف منہ کر دیں
یا یہ بھی جائز ہے کہ چت لٹا دیں اور قبلہ کو پائوں کریں کہ اس صورت میں بھی قبلہ کو منہ ہو جائے گا لیکن اس صورت میں سر کو تھوڑا اونچا رکھیں۔ اگر قبلہ کو منہ کرنا دشوار ہو کہ اسکو تکلیف ہوتی تو جس حالت میں پر ہے چھوڑ دیں۔ ( درالمختار معہ ردالمختار، کتاب الصلاہ،باب صلاہ الجنازہ)
مومن کی موت کی علامات
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں میں نے رسولﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: مرنے والوں میں تین علامتیں دیکھو اگر اسکی پیشانی پہ پسینہ آئے آنکھوں میں آنسو آئیں اور نتھنے پھُل جائیں تو یہ اللہ عزوجل کی رحمت ہے۔ (نوادرالاصول للحکیم الترمذی، الاصل السادس والثمانون، 282/1)
مرنے والے کو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنا
مرنے والے کو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنا سنت رسولْ ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادہے: اپنے مرنے والوں کو کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کی تلقین کرو۔
(مسلم کتاب الجنائز، باب تلقین الموت۔۔۔ الخ، ص 821 حدیث 2123)
امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کے پاس بوقت موت موجود رہو، انہیں کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کی تلقین کرو اور انکے سامنے کلمہ طیبہ کا ذکر کرو کیونکہ یہ مرنے والے وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ (التذکرہ للقطبی، باب تلقین المیت لاالہ الا للہ۔، ص35)
تلقین کے مدنی پھول
جان کنی کی حالت میں جب تک روح گلےکو نہ آئے اُسے تلقین کریں یعنی اسکے بلند آواز سے پڑھیں: اشھدان لاالہ الا اللہ واشھدان محمدارسول اللہ۔ مگر اُسے کہنے کا حکم نہ کریں۔ (جوھرہ نیرہ، کتاب الصلاہ، باب الجنائز، ص 130)
جب اُسنے کلمہ پڑھ لیا توتلقین موقوف کردیں، ہاں اگر کلمہ پڑھنے کے بعد اُس نے کوئی بات کی تو پھر اُسے تلقین کریں کہ اسکا آخری کلام لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہو۔ فرمانِ مصطفیﷺ ہے کہ جسکا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (ابودائود، کتاب الجنائز، باب فی التلقین، 255/3، حدیث 3116 وعالمگیری)
روح قبض ہونے کے بعد اِن مدنی پھولوں پر عمل کریں!
جب روح نکل جائے تو ایک چوڑی پٹی جبڑے کے نیچے سے سر ہر لے جا کر گِرہ لگا دیں کہ منہ نہ کھلا رہے اور آنکھیں بند کردی جائیں۔ انگلیاں اور ہاتھ بائوں سیدھے کردیے جائیں۔ یہ کام اسکے گھر والوں میں سے جو زیادہ نرمی سے کر سکتا ہو وہ کرے۔
(کتاب الصلاہ، باب الجنائز،ص 131)